ہتھکڑیوں میں جکڑی حکومت

جن خدشات کے سبب ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں فوری طور پر عام انتخابات کے حامی اور اپنی جماعت کی حکومت قائم کرنے کے مخالف تھے وہ خدشات صرف چند ماہ میں ہی درست ثابت ہوگئے ہیں۔

وہ جانتے تھے کہ عمران خان کی حکومت نے ساڑھے تین سال میں پاکستان کوجس معاشی دلدل میں لاچھوڑا ہے وہاں سے پاکستان کو نکالنے کے لئے جو مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے ان فیصلوں سے ن لیگ کی عوام میں ساکھ دائو پر لگ سکتی ہے، پھر یہی ہوا پاکستان میں موجود ن لیگی قیادت اور پی ڈی ایم نے عام انتخابات سے گریز کیا اور ن لیگ کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت قائم کی گئی۔

پھر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئےآئی ایم ایف کے دبائو پر پیٹرول ، ڈیزل،بجلی سمیت درجنوں اشیاکی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا جس سے ملک میں مہنگائی کاایک سیلاب امڈ آیا،تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایک زیرک سیاستداں تھے۔

انھوں نے آئی ایم ایف سے وعدہ کرکے بھی پیٹرول ،ڈیزل سمیت عام استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جس سے ملک کو تو نقصان پہنچا لیکن انھوں نے عوام میں اپنے آپ کو ایک غریب دوست لیڈر کے طور پر منوا لیا ، ان کے اس طرز عمل سے پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کی نظر میں ایک وعدہ خلاف ملک ثابت ہوا، آئی ایم ایف نے امداد روک دی اور پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہوگیا۔

عمران خان کی حکومت گئی تو اس کا بھی انہوں نے امریکہ مخالف بیانیہ تیار کرکے سیاسی فائدہ حاصل کیا ، بلاشبہ عمران خان نے کئی دفعہ ملکی مفادات کو دائو پر لگا کر سیاسی فائدہ حاصل کیا ، دوسری جانب شہباز حکومت نے ملک بچانے کیلئے مشکل فیصلے کئے ،آئی ایم ایف کو معاشی مدد کیلئے رضا مند کیا۔

ملک میں مہنگائی میں اضافہ کیا جس کا انہیں سیاسی نقصان اٹھانا پڑا جس کے نتیجے میں ن لیگ کو پنجاب کے ضمنی انتخابات میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ، پہلے مرحلے میں پنجاب کی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے، اگلے مرحلے میں کیا ہوتا ہے دیکھنا ہوگا ؟ پھر دوسرا خدشہ جو قائد ن لیگ میاں نواز شریف کو تھا وہ بے اختیار حکومت کا قیام تھا۔

یہ خدشہ بھی بالکل ٹھیک ثابت ہوا، ن لیگ کی قیادت میں مرکزی حکومت تو قائم ہوئی لیکن اس نئی حکومت کو اتنے اختیارات بھی نہیں ملے جتنے تحریک انصاف کو گزشتہ ساڑھے تین سالہ دور میں حاصل تھے، یہاں تک کہ وفاقی بیوروکریسی میں تقرری و تبادلوں پر بھی قدغنیں لگائی گئیں ،کئی بڑے فیصلے اختیارات نہ ہونے کے سبب نہیں کئےجاسکے۔

ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاشی ماہر اسحق ڈار کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں ملی لہٰذا کم تجربہ کار مفتاح اسماعیل نے وزارت خزانہ کی باگ دوڑ سنبھالی نتیجہ یہ ہوا کہ آج ڈالر ڈھائی سو روپے تک جا پہنچا ہے، حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ن لیگ ملک میں اپنی بی ٹیم کے ذریعے حکومت کررہی ہے اور اے ٹیم یا مرکزی قیادت کو ملک میں آنے اور حکومت میں کردار ادا کرنے کی آزادی میسر نہیں ہے۔

تحریک انصاف نے ایک بیانیہ یہ بھی تیار کیا کہ شہباز شریف کی حکومت لندن میں موجود اپنی قیادت کے خلاف کیسز ختم کرارہی ہے یا این آر او لے رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ نواز شریف کے خلاف کوئی کیس ختم ہوا ہے نہ ہی اسحق ڈار کے خلاف اور نہ ہی مریم نواز کے خلاف بنائے گئے سابقہ جعلی کیسز ختم ہوسکے ہیں۔

حمزہ شہباز کی حکومت کو پنجاب میں بننے سے پہلے ہی ختم کردیا گیا جبکہ شہباز شریف صرف دوست ممالک سے پاکستان کے لئے معاشی مدد کے حصول کے لئے سرکرداں نظر آتے ہیں، عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد جس اینٹی اسٹیبلشمنٹ ایجنڈے کو سامنے لائے تھے وہ اس ایجنڈے میں کامیاب نظر آرہے ہیں جس کا ثبوت ان کا مطمئن نظر آنا ہے۔

اگر اگلے عام انتخابات سے قبل ن لیگ کی مرکزی قیادت کو ملکی سیاست میں آزادانہ طور پر کردارادا کرنے کی آزادی نہیں ملتی اور پاکستان میں موجود ن لیگی قیادت کو ہی الیکشن میں عوام کے پاس جانا پڑا تو یہ ن لیگ کیلئے بڑا سیاسی المیہ ثابت ہوسکتا ہے، بہرحال حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے غریب عوام انتہائی مظلوم اور سیاستداں ظالم اور خود غرض ثابت ہورہے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن اقتدار کی لڑائی میں عوام کو بھول بیٹھے ہیں جو غربت کی چکی میں ہر روز پستے ہی چلے جارہے ہیں ، ان کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے حکمراں ڈریں اس وقت سے، جب وقت انکے ہاتھ سے نکل جائے گا اور عوام سڑکوں پر آجائیں گےپھر یقین رکھیں نہ آپ کا تخت بچے گا نہ تختہ پھر صرف دھڑن تختہ ہوگا نہ جانے کس کس کا۔

(تحریر: محمد عرفان صدیقی،روزنامہ جنگ)

اپنا تبصرہ بھیجیں