کورٹ میرج کے رجحان میں اضافہ

اکیسویں صدی میں بے حد افسوس کا مقام ہے جس قدر کورٹ میرج کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے بہت سے سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں۔

کیا والدین اتنے بے بس ہوگئے کہ اولاد پر کنٹرول نہیں رکھتے۔ کیا بچے اتنے بڑے فیصلے کرنے کے قابل ہوگئے۔ کیا کورٹ میرج میں عزت ہے۔ ہماری نسل نو میں یہ رجحان کیوں پیدا ہوا۔ کیا سربراہوں کی نگرانی میں میرج مشکل ہوگئی۔

کیا اسلامی نقطہ نظر میں کورٹ میرج درست ہے۔ کیا کورٹ میرج سے جو درست معنوں میں نکاح ہوجاتا ہے۔ کیا نوجوان نسل دین سے اتنی دور ہوگئی کہ یہ اقدام اٹھانے کی نوبت آگئی۔ کیاکورٹ میرج کا رجحان آنے والی نسلوں پر بد اثرات مرتب نہیں کرے گا۔ کیا قانون اس سلسلے میں کوئی درست حکمت عملی اپنائے گا کہ اس رجحان کو کم کیا جائے۔

نکاح سنت رسول ہے لازم کریں لیکن جائز اور درست طریقے سے کیجیے۔
ارشاد نبوی ہے: “النکاح من سنّتی” نکاح کرنا میری سنت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے نکاح کوآدھا ایمان بھی قرار دیا ہے “اِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ اِسْتَکْمَلَ نِصْفَ الدِّیْنِ فَلْیَتَّقِ فِیْ النِّصْفِ الْبَاقِیْ” جو کوئی نکاح کرتاہے تو وہ آدھا ایمان مکمل کرلیتاہے اور باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرتا رہے۔

ان احادیث سے بہت حد تک نکاح کی اہمیت کے حوالے سے اندازہ ہوجاتا ہے۔ نکاح اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کو طلاق کے ذریعے ختم کیا جاسکے۔ دوسرے لفظوں میں طلاق اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ عمل ہے۔ کورٹ میرج یہ ہی بعد میں کیوں طلاق و خلع کی شکل اختیار کرجاتی ہے۔ اور قانون کا کردار اس میں بھی پست ہی نظر آتا ہے۔ لیکن بہت حد تک جج حضرات صلح کو ترجیح دیتے ہیں۔

سروے کے مطابق 2021 میں پاکستان میں شرح طلاق کے حوالے سے پہلے نمبر پر رہا۔ طلاق و خلع کے کیسز میں اضافہ جس تیزی سے بڑھ رہا ہے وہ لمحہ فکریہ ہے۔ عدالتوں میں ایسے بے شمار کیسز pending پر ہیں جن کا کئی کئی سال گزر جانے کے بعد بھی کوئی فیصلہ اختتام پذیر نہیں ہوپاتا۔

گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستانی معاشرے میں طلاق کے کیسز میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ اسلام نے صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے جہاں عائلی زندگی کو ضروری قرار دیا ہے۔ وہیں مجرد زندگی گزارنے سے منع فرمایا ہے۔

طلاق کی بے شمار وجوہات ہیں جو میری نظر سے گزری ہیں۔ کچھ نکات درج ذیل ہیں:

تعلیم، شعور، عقل کا نہ ہونا نمبر 1 پر ہے۔ عدم برداشت، خواہشات کا مزید ہونا، مس میچ افراد اور خاندانوں میں رشتے، پسند کی شادی اور سماجی آزادی، سب سے بڑی وجہ دین سے قربت نہ ہونا۔

چھوٹے چھوٹے بچے جن کی عمریں ابھی کھیلنے اور پڑھنے لکھنے کی ہوتی ہیں وہ کیوں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ماں باپ کو بتائے بغیر گھر چھوڑ کر شادی کر لیتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب میڈیا کو تلاش کرنا چاہیے۔

والدین بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے عاری ہیں تو دوسری طرف ریاست و حکومت بھی محض تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اور قانون کی اس حوالے سے رائے پرفارمنس کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جدھر دینی احکام کو پس پشت ڈال کر سب اپنے اپنے قوانین پر چل رہے ہیں۔

پچھلے دنوں کراچی سے چند ایک نو عمر بچیوں کے غائب ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ ان کیسوں کا ڈراپ سین ہوا اور بچیوں کی وڈیوز سامنے آ گئیں جن میں اُنہوں نے اپنی مرضی سے اپنے اپنے گھر چھوڑ کر پسند کی شادی کرنے کا بیان دیا۔ ان سب میں قصور وار والدین، میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی اور اُس کو کم عمر بچوں میں پروموٹ ہونا، اور اس سلسلے میں وہی کہیں نہ کہیں ہمارا قانون جوکہ کورٹ میرج کو کروانے کو درست قرار دے کر ان سنجیدہ واقعات کو مزید ہوا دے رہیں ہیں۔ بے حیائی کا یہ عالم ہے کہ دین سے نا آشنا لوگ جب چاہا کورٹ میرج کرلی۔ سنتِ رسولﷺ کو مذاق بناکے رکھ دیا۔

آج کل نوجوانوں کی یہ خود سری اور گھر سے فرار ہو کر والدین کی اجازت اور مرضی خلاف اپنے خفیہ دوستوں سے شادی رچا لینے کی وبا ہمارے معاشرہ میں روز افزوں ہے عدالتوں کی کرسیوں پر براجمان بہت سے جج بھی مغرب زدگی کا شکار ہوکر ایسے نکاحوں کو صحیح قرار دے کر ان لوگوں کی تائید کرتے اور معزز اور شریف والدین کی بے عزتی اور بے بسی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور نا عاقبت اندیشی میں کہ انکی بیٹیاں بھی یہی کر دار ادا کر سکتی ہیں۔ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کیا کورٹ میرج اسلامی نقطہ نظر سے درست ہے ہاں یا نہیں۔ اس کو حوالے کے ساتھ میں بیان کرتی چلوں کہ اس پر ہمارے آقا دو جہاں کا کیا فرمان ہے ملاحظہ کیجیے:

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔ جامع الترمذی أبواب النکاح باب ما جاء لانکاح إلا بولی (1101)

اسی طرح نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان ہے کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہ کروائے اور نہ ہی کوئی عورت اپنا نکاح خود کر لے، کیونکہ زانیہ ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے [سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب لانکاح إلا بولی (1882)۔

کاش کہ آج کل کے علماء اور ہماری عدالتوں کے فاضل جج صاحبان کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق بات سمجھ آجائے جو امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمدبن حنبل رحمہم اللہ اجمعین کا متفقہ موقف ہے اور اللہ تعالى کی کتاب اور نبی کریم ﷺ کے فرمان و سنت میں بیان شدہ ہے۔ نیز شریعت نے لڑکے، لڑکی کے نکاح کا اختیار والدین کو دے کر انہیں بہت سی نفسیاتی و معاشرتی سی الجھنوں سے بچایا ہے، اس لیے کسی واقعی شرعی مجبوری کے بغیر خاندان کے بڑوں کے موجود ہوتے ہوئے لڑکے یا لڑکی کا از خود آگے بڑھنا خدائی نعمت کی ناقدری ہے، بےشمار واقعات ہیں کہ کسی کے بہکاوے میں آکر کیے گئے یہ نادانی کے فیصلے بعد کی زندگی کو اجیرن کر ڈالتے ہیں، لہذا کورٹ میرج شرعاً، عرفاً اور اخلاقاً نہایت نامناسب عمل ہے جس سے گریز ہوناچاہیے۔

کورٹ میرج نتیجۃً ایسی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں اورعلیحدگی کی نوبت آجاتی ہے۔ طلاق سے پیدا ہونے والے مسائل بھی بے شمار ہیں جو سر اٹھاتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا مسئلہ بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ parents sepration سے بچے ایک طرح کے نفسیاتی مریض بھی بن جاتے ہیں اور parents attention بچوں کو proper نہ ملے تو یہ ہی بچے معاشرے میں کئی طرح کے جرائم پیشہ عناصر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

اس کا بہترین حل یہ ہی ہے کہ ادارے positive role play کریں اور لوگوں تک آگاہی پہنچائی جائے یعنی divorce against تحریک چلائی جائے اور طلاق کے خلاف آگاہی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک convey کی جائے۔ کوشش تو کی جاسکتی ہے کہ مسلم معاشرے سے اس برائی کو کم کیا جاسکے۔

آخر میں یہ ہی پیغام دوں گی کہ زندگی بہت مختصر ہے اور اپنی زندگی کے قیمتی حصے کو عدالتوں کی نذر مت کیجیے۔ kindly اپنے بچوں کے لیے اپنی eagos کو ختم شد کیجیے کیونکہ آپ کے بچے آپکا مستقبل ہیں اور زیادہ عزیز ہونے چاہیں۔ والدین اپنی دینی اور معاشرتی اقدار کی بجائے مغربی کلچر سے مرعوب ہونے لگیں تو پھر بہتری کی توقع کی بجائے تباہی کا ہی انتظار کیا جاتا ہے۔ خدارا اپنے خاندان، اپنی نسلوں، اپنے معاشرےکو تباہ ہونے سے بچائیں۔ یہ تو رہا مختصر جائزہ کورٹ میرج کے بعد میں ہونے والے نتائج یہ ہی وجہ بھی ہے ایک کہ شرح طلاق میں اضافہ بے شمار ہوا۔ سوچ و بچار سے اگر ایسے فیصلے کیے جائیں تو نہ کورٹ میرج کا رجحان ہو اور نہ طلاق کے کیسز میں روز وبروز اضافہ دیکھنے کو ملے۔

(تحریر:- عثمان )

اپنا تبصرہ بھیجیں