چوہدری خاندان – Hania Irmiya

بائیس جولائی کو لاہور پارلیمان میں ایک ایسی صورتحال دیکھی کہ دل کٹ کے رہ گیا اسے ضمیر فروشی کہیے یا مصلحت اور وقت کی ضرورت یا پھر خون کا سفید ہو جانا، مگر جو بھی کہیے لیکن یہ طے ہے کہ سیاست کی چتر چالاکیوں نے خون اور دل دونوں رشتے کچل ڈالے۔ اسی لیے تو بزرگوں سے سنتے رہتے ہیں کہ اس دور میں دکھ اور سکھ اب سانجھے نہیں رہے۔ عدیم ہاشمی صاحب اس متعلق کیا خوب لکھتے ہیں

آج اُس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لیے

آج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھا

مگر یہ سیاست ہے پیارے، پاکستان کی سیاست میں متحرک چند بڑے خاندانوں کی اجارہ داری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس اجارہ داری کو موروثی سیاست سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان موروثی خاندانوں کی سیاست نے کئی مرتبہ ملکی تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا۔ ان موروثی سیاسی خاندانوں میں گجرات کے چوہدری خاندان شمار کے مطابق فہرست کے پہلے ہندسوں میں آتے ہیں۔ اس خاندان کی سیاسی تاریخ کا آغاز چوہدری ظہور الٰہی سے ہوتا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل چوہدری ظہور الٰہی نے ایک پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ لیکن پھر تقسیم ہند کے بعد اپنے بڑے بھائی چوہدری منظور الٰہی کے ساتھ مل کر ٹیکسٹائل کے شعبے میں کاروبار شروع کر دیا۔

انہوں نے 1958 میں سیاست میں قدم رکھا اور جلد ہی پاکستان کے بڑے سیاست دانوں میں شمار ہونے لگے۔ چوہدری ظہور الٰہی پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بھی رہے اور 1962 میں پہلی مرتبہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ دوسری مرتبہ وہ 1972 میں اسمبلی میں پہنچے تو ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کیا۔ اس دوران وہ گرفتار ہوئے اور انہیں پانچ سال کی سزا ہوئی۔ سنہ 1981 میں انہیں لاہور میں قتل کر دیا گیا۔ چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی جبکہ منظور الٰہی کے بیٹے چوہدری پرویز الٰہی ہیں۔

ظہور الٰہی کے قتل کے بعد چوہدری خاندان کی دوسری نسل نے سیاست اور کاروبار دونوں سنبھال لیے۔ شجاعت الٰہی اور پرویز الٰہی، دونوں کزنز نے پہلے ہی دن اپنے سیاسی طور طریقے وضع کر لیے۔ چوہدری شجاعت نے قومی اسمبلی کی سیاست میں قدم رکھا تو چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب کی سیاست کو اپنا ہدف بنایا۔ 80 کی دہائی میں دائیں بازو کی سیاست کرتے کرتے دونوں کزن بالآخر مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر پہنچ گئے۔

چوہدری شجاعت حسین، نواز شریف حکومت کے دو مرتبہ وزیر داخلہ رہے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کی نظریں پنجاب کی وزارت اعلٰی پر تھیں۔ سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز نے ظہور الٰہی کی سیاست کو دوام بخشا اور جلد ہی ملک کے فیصلہ سازوں میں شمار ہونے لگے۔ 1997 کے الیکشن کے بعد پرویز الٰہی کی شریف خاندان سے عداوت کی بنیاد اس وقت پڑی۔ جب نواز شریف نے شہباز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ چوہدری پرویز الٰہی خود کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار سمجھتے تھے۔ مگر چوہدری پرویز الٰہی کا یہ خواب جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا دور میں پورا ہوا۔

چودھری برادران اس وقت جس پارٹی سے منسلک ہیں وہ “پاکستان مسلم لیگ ق یا قائد اعظم” ہے جسے 2001ء میں میاں محمد اظہر نے قائم کیا۔ اس پارٹی کا قیام اس وقت عمل میں آیا جس وقت پاکستان مسلم لیگ بہت سے دھڑوں میں بٹ چکی تھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور مسلم لیگ ق کو ایک دوسرے کی زبردست حمایت حاصل تھی۔ اور یہ پارٹی فوجی آمر پرویز مشرف کے زیر عتاب پاکستان مسلم لیگ ن کو چھوڑ دینے والے اراکین پر مشتمل تھی۔ اس جماعت کو تشکیل دینے والوں میں سیدہ عابدہ حسین، خورشید محمود قصوری اور چودھری شجاعت حسین شامل تھے۔ موجودہ وقت میں جماعت کی قیادت چودھری شجاعت حسین کے پاس ہے۔ مگر آج چوہدری خاندان کے درمیان موجود سیاسی اختلاف کا پس منظر ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار یہ رائے رکھتے ہیں کہ باہمی دوریوں کی وجہ اس خاندان کی تیسری نوجوان نسل بھی ہے۔

نوجوان نسل کا ہر خاندان میں کچھ اپنا کردار ہوتا ہے کچھ ایسا ہی معاملہ چوہدری خاندان میں بھی نظر آتا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی جو بھی فیصلہ لیتے ہیں وہ مونس الٰہی کے ایما پہ ہوتا ہے مونس عمران خان کے زبردست حمایتی ہیں۔ اور انہی کی پارٹی سے منسلک ہیں۔

چوہدری خاندان کی تیسری نسل بھی سیاست میں ہے۔ مونس الٰہی دو مرتبہ 2008 اور 2013 میں پنجاب اسمبلی کے ممبر رہے ہیں۔ موجودہ قومی اسمبلی کے ممبر وہ 2018 کا الیکشن جیت کر بنے۔ اس خاندان کا سیاسی اختلاف اس وقت شہ سرخیوں میں ہے اس کا برملا اظہار مونس الٰہی گزشتہ دنوں میں کر چکے ہیں۔ چودھری شجاعت کے بیٹے سالک اس وقت موجودہ حکومت کے وزیر ہیں۔ چوہدریوں کے گھر پرانے آنے والے مہمانوں سے پس منظر میں ہونے والی گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ شجاعت اور پرویز زندگی بھر متحد رہے، تاہم ان کے بچے کچھ سالوں سے ایک دوسرے سے بیزار ہیں۔ سیاسی طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی کے بعد ان کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کی غیر مساوی تقسیم بھی تشویش کی ایک وجہ ہے۔ اختلافات صرف شجاعت اور پرویز کے بچوں میں ہی نہیں۔ جنگ کی لکیر کھینچتے ہی شجاعت کا چھوٹا بھائی وجاہت، پرویز الٰہی کے ساتھ کھڑا پایا گیا۔ پس منظر کے لحاظ سے شجاعت اور پرویز نہ صرف ایک دوسرے کے فرسٹ کزن ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے سالا بہنوئی بھی ہیں۔

عیدالاضحیٰ سے ایک ہفتہ قبل وجاہت الٰہی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سالک شجاعت نے آصف زرداری سے ڈالر وصول کیے ہیں۔ یہ ایک ایسا الزام ہے جس نے شجاعت کو مکمل طور پر توڑ کر رکھ دیا کیونکہ یہ بیان ان کے چھوٹے بھائی کی جانب سے آرہا ہے۔ ایک قریبی ساتھی کے مطابق شجاعت افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ پرویز اور وجاہت انہیں سیاسی فیصلہ سازی سے متعلق معاملات پر اندھیرے میں رکھتے ہیں اور اس وجہ سے وہ خود کو سائیڈ لائن محسوس کر رہے ہیں۔

پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی عمران خان سے ہوئی ملاقاتوں اور معاہدوں سے متعلق بھی شجاعت چودھری لاعلم ہی پائے جاتے ہیں جس باعث اس خاندان میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے اور اب یہ کشیدگی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ تعلق داری سیاسی حربوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ بائیس جولائی کو جو بھی ہوا پرویز الٰہی اس سے لاعلم تھے جبکہ ق لیگ کے سبھی ممبران شجاعت چودھری کے عمل سے ناراض دکھائی دئیے مگر شجاعت چودھری اپنے بیان پہ موجودہ دن تک قائم ہیں کہ اداروں کی تذلیل کرنے والے امیدوار کا ساتھ نہیں دیا مگر پرویز الٰہی ہماری پارٹی کی طرف سے آج بھی وزرات اعلیٰ کے امیدوار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں