انگریزی قابلیت کا معیار؟؟

آج کل سوشل میڈیا پر ایک ریستوران کی مالکہ کے اپنے مینجر کو انگریزی میں بات نہ کر پانے پر مذاق بنانے کی ویڈیو وائرل ہے مجھے یہ ویڈیو دیکھ کر بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہمارے ہاں جس تعداد میں انگریزی اسکولوں کا بزنس ترقی کر رہا ہے اتنی ہی تیزی سے ہماری قومی زبان اردو کو کم تر سمجھا جانے لگا ہے ۔
یہ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک پرائیوٹ اسکول میں مجھے ایسا ہی کچھ دیکھنے کو ملا جب طالب علم کے والدین پر اسکول انتظامیہ مسلسل انگلش جھاڑ کے انہیں کچھ سمجھانا چاہ رہی تھیں اور والدین کو ایک لفظ سمجھ نہیں آرہی تھی جبکہ سمجھانے والےبھی اور سمجھنے والے بھی مقامی ہی تھے مگر زبان ولایتی۔۔۔
پاکستان میں انگریزی ایک ایسی زبان بن چکی ہے جس میں تعلیم حاصل کرنے اور گفتگو کرنے کو لوگ اعلیٰ ادنی اور باعثِ فخر سمجھتے ہیں اور جو انگریزی نہیں بول پاتا اس کا مذاق اڑانا اپنا فرض مانتے ہیں۔
پوری دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا لوگ انگریزی کو صرف اتنا سیکھتے ہیں جتنی ضرورت پڑنے پر اپنی بات سمجھا سکیں مگر ہمارے ہاں انگلش کو قابلیت کا معیار بنا دیا گیا ہے۔اسکی مثال حکومتی دفاتر میں صاف دکھائی دیتی ہے جہاں ساری ضروری لکھائی انگریزی میں ہی ہوتی ہے یعنی قومی زبان اردو اور سرکاری زبان انگریزی۔۔نہ صرف دفاتر بلکہ بینک، اسپتال ، شاپنگ سینٹرز اور اسکولوں میں ہر جگہ انگریزی زبان کا سکہ چلتا ہے۔
جو فر فر انگریزی بولے وہ ذہین و فطین اور جو ٹوٹی پھوٹی ہی بول کہ اپنی بات سمجھانے کی کوشش کر لے وہ نالائق اور قابل تمسخر۔
ہم تو خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس اردو کی شکل میں ایک زبان نہیں پوری تہذیب موجود ہے اردو کو رابطے کی زبان کے طور پر رواج دینا وقت کی ضرورت ہے سرکاری سرپرستی ملے نہ ملے مگر ہمیں آپس میں بات چیت اردو میں کر کہ اسکی اہمیت کو اجاگر کر نا چاہیے کیونکہ یہ زبان ہمارا ورثہ ہے مجھے چینی صدر ماؤزے تنگ کا واقعہ یاد آرہا ہے جو انگریزی زبان پر عبور رکھتے تھے مگر اسکے باوجود وہ اپنے کسی غیر ملکی دورے یا تقاریب میں انگریزی کے بجائے چینی زبان بولتے ایک بار ان سے پوچھا گیا کہ آپ انگریزی کیوں نہیں بولتے تو بولے چینی گونگے نہیں ہیں انکے پاس انکی اپنی زبان ہے ۔
مگر ہمارا حال دیکھیے کہ ہم لوگوں کا انگریزی میں امتحان لے کہ انہیں کم تر اور خود کو پڑھا لکھا مان بیٹھتے ہیں جبکہ انسان کی پہچان اسکی تربیت اخلاق اور حسن سلوک سے ہوتی ہے جسے یہ سلیقہ نہیں اسے کوئی حق نہیں کہ خود کو تعلیم یافتہ انسان تو دور صرف انسان بھی کہے۔جبکہ زبانیں تو کئی ہیں جو دنیا میں بولی جاتی ہیں پھر اپنی ہی شیریں زبان بول کہ سر فخر سے بلند کیا جائے کیونکہ اردو تو اپنی ہی ہے باقی سب تو اجنبی پھر چاہے وہ انگریزی ہو یا لاطینی۔
بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا

اپنا تبصرہ بھیجیں