گھوٹکی کے قریب ٹرین حادثہ:32 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی

ڈہرکی کے قریب 2 ٹرینوں میں خوفناک تصادم کے نتیجے میں 32 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ملت ایکسپریس کی بوگیاں الٹ کر دوسرے ٹریک پر جاگریں۔ مخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جس میں پاک فوج اور رینجرز کے جوان شریک ہیں۔

 ترجمان ریلوے کے مطابق ٹرین حادثہ رات 3 بج کر 45 منٹ کے قریب ہوا، ملت ایکسپریس حادثے کے فوری بعد سرسید ایکسپریس ٹریک پر گری بوگیوں سے جاٹکرائی، ملت ایکسپریس کے ڈرائیور کو کمیونیکیشن سسٹم دستیاب ہے، سرسید ایکسپریس نے ولہار سٹیشن کو 3 بج کر 25 منٹ پر کراس کیا، ملت ایکسپریس نے ڈہرکی کو 3 بج کر 30 منٹ پر چھوڑا، ماچھی گوٹھ سے ڈہرکی تک ٹریک بوسیدہ اور مرمت کرنے والا ہے۔

ٹرین حادثے کے ایک زخمی مسافر نے بڑا انکشاف کیا ہے کہ ملت ایکسپریس کا کلمپ پہلے سے ہی ٹوٹا ہوا تھا، جس کا ریلوے حکام کو علم تھا، اسی وجہ سے ٹرین لیٹ ہوئی اور کراچی کینٹ سٹیشن پر کھڑی رہی۔ مرمت کے بعد ٹرین روانہ کی گئی، تاہم ڈہرکی کے قریب اتنا بڑا حادثہ پیش آگیا۔

وزیراعظم نے گھوٹکی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جامع انکوائری کا حکم دے دیا۔ عمران خان نے کہا کہ وزیر ریلوے کو جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے، ریلوے سیفٹی کی خرابیوں کی جامع تحقیقات کی جائیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر ریلوے اعظم سواتی حادثےکی جگہ چلے گئے۔ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ دی جائے گی، حادثےکی انکوائری خود کروں گا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ٹرین حادثے کے بعد ریلیف اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، آرمی اور رینجرز کے دستے ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، پنو عاقل سے پاک فوج کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف جائے حادثہ پر پہنچ چکا ہے، ریسکیو کے لئے آرمی انجینئرز کے وسائل بھی بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں