15 سال بعد پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر مکمل

لاہور: 15 سال بعد پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے نئی عمارت کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اسمبلی، صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور وزیر موصلات بھی ہمراہ تھے۔

آئندہ مالی سال کا بجٹ نئے ایوان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسلسل تاخیر کی وجہ سے عمارت پر 5 ارب 39 کروڑ روپے لاگت آئی۔ پنجاب اسمبلی کا ہال ایشیا کا سب سے بڑا ایوان ہے جس میں 422 اراکین کے بیٹھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے جبکہ مہمان گیلری میں بیٹھنے کی گنجائش 800 ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کو نئی عمارت کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی عمارت کا سنگ بنیاد 27 جون 2006ء کو اس وقت کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہیٰ نے رکھا تھا۔ یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہونا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) کے دور میں فنڈز کی عدم دستیابی کی بنیاد پر اسے مسلسل التوا کا شکار رکھا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت اور ایوان کی تعمیر پر 2 ارب 37 کروڑ لاگت آنا تھی لیکن مسلسل تاخیر کے باعث منصوبہ 5 ارب 39 کروڑ میں مکمل ہوا۔ منصوبے میں تاخیر کے باعث تین ارب سے زائد کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔

سپیکر کو بتایا گیا کہ نئی پنجاب اسمبلی کا ہال ایشیا کا سب سے بڑا ایوان ہے۔ ایوان میں 422 اراکین جبکہ مہمان گیلری میں بیٹھنے کی گنجائش 800 ہے۔ اسمبلی کی نئی عمارت میں سپیکر، وزیراعلیٰ، ڈپٹی سپیکر اور اپوزیشن لیڈر کے دفاتر قائم کئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبائی وزرا کے لیے نئی عمارت میں 38 دفاتر بنائے گئے ہیں۔ ان میں تین کمیٹی روم اور سیکرٹری اسمبلی کا دفتر بھی قائم ہے۔ پریس کانفرنس ہال، ڈسپنسری، لائبریری اور وسیع و عریض کیفے ٹیریا بھی بنایا گیا ہے۔

سیکیورٹی مانیٹرنگ روم، آئی ٹی ڈیٹا سنٹر اور چار سو سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ بھی نئی عمارت میں قائم کی گئی ہے۔

چودھری پرویز الہیٰ کو بتایا گیا کہ این سی اے کی نگرانی میں عمارت کے نقش ونگار اور خطاطی کا کام مکمل کیا گیا ہے۔
 

اپنا تبصرہ بھیجیں