کالعدم ٹی ایل پی اور حکومت کے مذاکرات جاری، تیسرا راؤنڈ رات کو ہوگا

لاہور: کالعدم تحریک لبیک اور حکومت پنجاب کے درمیان مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ کچھ دیر پہلے اختتام پذیر ہوا، اب تیسرا راؤنڈ رات کو دس بجے ہوگا۔

وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کیساتھ دوسرے راؤنڈ میں گورنر پنجاب چودھری سرور اور وزیر قانون راجہ بشارت نے حکومت کی نمائندگی کی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ تیسرا راؤنڈ رات کو 10 بجے ہو گا جس میں وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر مذہبی امور نور الحق قادری شریک ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر نور الحق قادری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پوری قوم نبی پاک ﷺ سے والہانہ عشق رکھتی ہے، حکومت ساری قوم اور پارلیمنٹ کی خواہشات کے مطابق اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے اس ایوان اور پوری قوم کے احساسات اور جذبات یکساں ہیں۔ اس میں کوئی داڑھی والا ہو یا کوئی اور سب کے جذبات اور رسول کریم ﷺ سے والہانہ عشق یکساں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا اس پر اپوزیشن اور حکومت دونوں کو دکھ ہے۔ کوئی بھی سیاسی اور جمہوری حکومت اس طرح کی صورتحال نہیں چاہتی۔ جب یہ واقعات رونما ہوتے ہیں تو سانحات ہوتے ہیں۔ ہم نے منت سماجت اور بات چیت کے ذریعے یہ معاملہ بہتری سے سلجھانے کی کوشش کی۔ ہم نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور کہا کہ ہم اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کے پابند ہیں۔ سپیکر کمیٹی قائم کریں گے جس کے سامنے آپ ڈرافٹ پیش کریں گے اور دفتر خارجہ اپنا موقف پیش کرے گا۔

نور الحق قادری نے کہا کہ ہم نے کہا کہ ہم تمام علماءکا احترام کرتے ہیں مگر خارجہ پالیسی کا تعین حکومت وقت کرتی ہے ہم نے ان سے کہا کہ اس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر وہ انہیں قائل کریں۔ ہماری بات چیت ہو رہی تھی کہ 20 اپریل کی کال دے دی گئی۔ حکومت یہ چاہتی ہے کہ راستوں اور موٹرویز کو کھلا رکھا جائے اور لوگوں کو تکلیف نہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ نبی رحمتﷺ کی شریعت کے تحت تو راستے کو بند کرکے جنازہ اور نماز بھی ادا نہیں کی جا سکتی۔ راستوں اور شاہراہوں کو کھلا رکھنا اور عام آدمی کی زندگی کی رکاوٹیں ختم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ رات بھی اس معاملے پر مشاورت کا عمل جاری رہا ہے اور اب بھی اجلاس ہونے جا رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ پارلیمنٹ اور ساری قوم کی خواہش کے مطابق مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ تحفظ ناموس رسالت کا پیغام کسی نے اتنا نہیں پھیلایا جتنا عمران خان نے پھیلایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں