ڈسکہ میں ری پولنگ: پی ٹی حکومت کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی حکومت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 میں دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر اعظم کو الیکشن کمیشن کے فیصلے پر بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق  اجلاس میں ڈسکہ کے انتخابی نتائج سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے قانونی پہلوؤں پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے پر مشاورت مکمل کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

خیال رہے کہ  الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ ضمنی انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے پورے حلقے میں انتخابات سے متعلق مسلم لیگ ن کی درخواست منظور کر لی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ پولنگ اسٹیشنز پر فائرنگ اور قتل و غارت ہوئی اور این اے 75 کے ضمنی انتخابات میں ماحول خراب کیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں