حلیم عادل شیخ کی گرفتاری، گورنر سندھ نے آئی جی کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا

کراچی: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی جی بارے وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ آئی جی سندھ کی تبدیلی کے لئے وزیراعظم کو خط لکھ دیا ہے۔ پولیس کو وارننگ دے رہا ہوں کہ صرف ریاست کی ملازمت کریں۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ جو وفاق کے بس میں ہے، وہ سب کرنے کیلئے مجبور نہ کیا جائے کہ ہم انتہائی قدم اٹھا لیں۔ آئی جی سندھ مشتاق مہر سیاسی وابستگی رکھتے ہیں۔ پولیس پر پریشر تو صاف نظر آ رہا ہے۔

عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا اپنا ایک استحقاق ہوتا ہے، اس کا یہ حال کریں گے تو پھر بات تو ہوگی۔ اگر آئی جی سندھ ایک صوبے کے ساتھ چل کر پارٹی بنیں گے تو پھر انتہائی قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ وفاق چاہتا ہے سندھ سے مظالم کو ختم کیا جائے۔ گورنر راج کے بارے وفاق نہیں سوچ رہا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا آئی جی سندھ مشتاق مہر کی تبدیلی پر غور

ادھر حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے معاملے پر وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ مشتاق مہر کی تبدیلی پر غور شروع کر دیا۔ سندھ کے ایم پی ایز کے اجلاس میں پہلی بار آئی جی کی تبدیلی کا مطالبہ سامنے آیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزرا اور اراکین اسمبلی نے سندھ میں آئی جی 21 گریڈ کا افسر لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے وزرا، ایم این ایز اور ایم پی ایز نے مشاورت کی۔ وفاق تک ایم این ایز اور ایم پی ایز کے اس حوالے سے تحفظات پہنچائے گئے۔

وزیراعظم نے گورنر سندھ کو ٹیلیفون کر کے حلیم عادل شیخ کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ عمران اسماعیل نے عمران خان کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ سندھ پولیس آئی جی کی سربراہی میں جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے، آئی جی سندھ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
 

اپنا تبصرہ بھیجیں