پاکپتن: کسانوں کی احتجاجی ٹریکٹر ریلی، 184 افراد پر مقدمہ درج

پاکپتن: کسانوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ٹریکٹر ریلی نکالی تو ضلعی انتظامیہ نے 14 معلوم اور 170 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ انتظامیہ کی جانب سے کسانوں کی احتجاجی ریلی پر 184 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

کسانوں کی جانب سے نکالی جانے والی ٹریکٹر ریلی کی ایف آئی آر اسسٹنٹ کمشنر پاکپتن خاور بشیر کی مدعیت میں تھانہ فرید نگر میں درج کی گئی ہے۔

درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کسانوں نے ریلی بنا اجازت کے نکالی، پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور اشتعال انگیز تقاریر کیں۔

کسان اتحاد پنجاب کے صدر چوہدری رضوان اقبال کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے مطالبات کے لیے جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ کسی جگہ پر سڑک بند کی اور نہ ہی کسی کو تکلیف دی۔ انہوں ںے کہا کہ اس کے باوجود ایف آئی آر کا ندراج آمرانہ روش کا عکاس ہے۔

چودھری رضوان اقبال کے مطابق ہمارے بنیادی تین مطالبات ہیں جن میں ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں کمی، زرعی ٹیوب ویلوں پر موجودہ حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیکسز کا خاتمہ اور گندم کی امدادی قیمت کم از کم دو ہزار روپے فی من شامل ہیں۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ٹیوب ویل کی بجلی کی قیمت گذشتہ دور حکومت میں پانچ روپے فی یونٹ اور ٹیکس فری تھی لیکن موجودہ حکومت نے دو ٹیکسز عائد کر کے اسے 13 روپے فی یونٹ تک پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم کی قیمت 18 سو روپے کرنے کا عندیہ دیا گیا لیکن وہ بھی کم ہے۔

کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے خلاف درج ایف آئی آر کے مدعی اسسٹنٹ کمشنر پاکپتن کے مطابق کسانوں کا احتجاج میرے دفتر کے سامنے ہوا۔ انہوں ںے کہا کہ کسانوں کے احتجاج میں قانون کی خلاف ورزی ہوئی جسپر بطور انتظامی افسر کارروائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں ںے کہا کہ اسی وجہ سے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کسان اتحاد کی بڑی ٹریکٹر ریلی فرید نگر سے ہوتی ہوئی ریلوے گراؤنڈ پہنچی۔ ریلی کی قیادت صدر کسان اتحاد پنجاب چوہدری رضوان اقبال کر رہے تھے۔ ریلوے گراؤنڈ پہنچ کر چوہدری رضوان نے اپنے مطالبات کے حوالے سے باقاعدہ تقریر کی اور کہا کہ 31 مارچ تک مطالبات نہ مانے گئے تو لاہوراوراسلام آباد کی جانب بڑا ٹریکٹر مارچ کریں گے۔ کسان اتحاد نے بغیر اجازت ریلی نکال کر ڈنڈوں اور سوٹوں کے ذریعے طاقت کا غیر قانونی مظاہرہ کیا۔ حکومت کے خلاف بیان بازی اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے عوام کے آرام میں خلل ڈالا۔ اس لیے ان کے خلاف ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کی دفعہ پانچ اور چھ اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 149 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں