ملک میں سیاسی ہلچل: مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ گرفتاری کے بعد جلد ہی رہا

وزیر آباد: پولیس نے مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما عطا تارڑ کو وزیر آباد سے گرفتار کرکے پولیس سٹیشن منتقل کیا لیکن بعد ازاں فوری طور پر ہی رہا کر دیا گیا۔

ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے عطا تارڑ کی گرفتاری کی تصدیق کی تاہم ان کی گرفتاری کیوں عمل میں آئی اس بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہیں۔

لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ کو وزیر آباد سے گرفتار کرکے سٹی پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عطا تارڑ پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔ ہمارے لوگوں کو حکومت کی جانب سے ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جب الیکشن میں شکست نظر آ رہی ہو تو اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے عطا تارڑ کو گرفتار تو کیا گیا لیکن اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس اقدام پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران عطا تارڑ کو گرفتار کرنا ان کی ہار کا خوف ظاہر کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ کی گرفتاری پر الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہیے۔ یہ جان چکے ہیں کہ یہ الیکشن ہار رہے ہیں۔ وجہ بتائے بغیرعطا تارڑ کو گاڑی میں ڈال کر سٹی پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وجہ بتائے بغیر عطا تارڑ کو گاڑی میں ڈال کر سٹی پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔ عطا تارڑ کی گرفتاری ان کا خوف ظاہر کرتی ہے۔ عطا تارڑ کو گرفتار نہیں، وارنٹ کے بغیر اغوا کیا گیا۔

دوسری جانب عطا تارڑ نے اپنی گرفتاری کی روداد بتاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے اسلحہ چیک کرنے کے بہانے ملازموں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ میں جب چھڑوانے گیا تو مجھ سے بھی بدتمیزی کی۔ پولیس نے راہگیروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے مجھے گاڑی میں ڈالا اور کہا چلیں۔ پولیس مجھے وین میں بیٹھا کر تھانے لے آئی۔ عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر ضمنی الیکشن میں پولیس نے لڑنا ہے تو ہم ان سے نمٹنا جانتے ہیں۔ ایک ایک زخم کا بدلہ لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں