وزیراعظم کی پریشان عوام کو صبر کی تلقین، روپے کی قدر میں کمی مہنگائی کی وجہ قرار

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کیلئے امیر غریب نہیں دیکھا جائے گا۔ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ تھوڑا صبر کریں، فارن فنڈنگ کیس کر کے اپوزیشن نے خود کو عذاب میں ڈال لیا، سینیٹ میں اوپن بیلٹ کے لیے رواں ہفتے آئینی ترمیم لا رہے ہیں۔
عوام کیساتھ سوال و جواب سیکشن میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین آج ہی پاکستان پہنچ چکی ہے، ویکسین سب سے پہلے فرنٹ لائن ورکرز کو لگائی جائے گی، 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جائیگی۔ کورونا ویکسین میں کوئی امیر غریب نہیں دیکھا جائے گا۔ کوشش کریں گے زیادہ تے زیادہ لوگوں کو ویکسین دیں۔

’سب کہتے ہیں ریاست مدینہ کا تصور پاکستان میں کامیاب نہیں ہو سکتا‘

انہوں نے کہا کہ زندگی میں بڑے بڑے گول رکھے جن میں کامیاب ہوا۔کرکٹ میں کپتان، شوکت خانم ہسپتال پھر سیاست کے گول رکھے۔ دو پارٹیاں ہوتی ہیں تو تیسری پارٹی کا آنا ناممکن ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی دو پارٹیاں تھیں تیسری پارٹی کا آنا ناممکن تھا۔ آج سب دیکھ رہے ہیں اور عوام کی مدد سے آپ کے سامنے ہیں، سب کہتے ہیں ریاست مدینہ کا تصور پاکستان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جب آپ کوئی ہٹ کر چیز کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا۔

’ہمارے پاس مدینہ کی ریاست کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم عظیم مخلوق ہیں اللہ نے ہمیں بہت سی صلاحیتیں دی ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھنے والے شخص کو بھی لوگوں نے کہا ایسا نہ کرو۔ لوگ اس لیے کہہ رہے تھے کہ اس سے پہلے والے لوگ فیل ہو گئے تھے۔ ہمارے پاس مدینہ کی ریاست کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ تعلیمی اداروں میں سیرت النبیﷺکامضمون پڑھانےکی تجویززیرغورہے، ہمارےنبیﷺکاآخری خطبہ تمام انسانی حقوق کاچارٹرہے۔ ریاست مدینہ میں میرٹ تھی،انسانی حقوق تھے۔

’گلگت بلتستان کو سیاحت کا حب بنائیں گے‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو سیاحت کا حب بنائیں گے، گلگت بلتستان دنیامیں بڑاسیاحتی مرکزبن سکتاہے۔ ٹورازم کا حب بنانے پر زور لگا رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پاور پلانٹ لگانے لگے ہیں، توانائی کا مسئلہ حل کریں گے۔ یہاں گرڈ سٹیشن لگانے سے لوگوں کے مسائل حل ہوں گے، سوئٹزر لینڈ سیاحت سے 80 ارب ڈالر کماتا ہے، پاکستان مجموعی طور پر 25 ارب ڈالر کماتا ہے۔ گلگت کے پہاڑ سوئٹزر لینڈ سے زیادہ خوبصورت ہیں۔

’اوپن بیلٹ کے لیے رواں ہفتے آئینی ترمیم لا رہے ہیں‘

وزیراعظم نے کہا کہ اوپن بیلٹ کے لیے رواں ہفتے آئینی ترمیم لا رہے ہیں، 30 سال سے سینیٹ الیکشن میں خرید و فروخت ہو رہی ہے، لوگوں کے ضمیر خرید کر سینیٹر بنتے ہیں، پیسے دے کر سیینیٹر بننے والا ملکی خدمت نہیں پیسے بنانے آیا ہے، کسی جماعت نے شفاف سینیٹ الیکشن کی بات نہیں کی، میں نے اپنے 20 ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکالا ہے۔

’ بلوچستان کی ماضی کی سیاسی جماعتوں نے صوبے کے لیے کچھ نہیں کیا‘

بلوچستان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے صوبے کے لیے کچھ نہیں کیا، صوبے کیلئے بلدیاتی نظام بہت ضروری ہے۔ ماضی کے حکمرانوں نے نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کیے۔ جنوبی بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا ہے، ہماری حکومت نے ملکی تاریخ کا بڑا پیکیج دیا ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے تھوڑا انتظار کرنا ہو گا، جیسے وسائل چاہیں ابھی ویسے نہیں ہیں، جیسے ہی وسائل آئیں گے ویسے ویسے کام کرتے جائینگے-عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی حکومت سارے غریبوں کو گھر بنا نہیں کر دیتی، ہم نے ایک سسٹم بنایا تھا جس کے تحت گھر تعمیر کرنے تھے، ہم نے بینکوں کے ذریعے غریبوں کے لیے گھر بنانے کی سکیم رکھی ہے، یورپ میں 80 فیصد لوگ بینکوں سے قرضہ لے کر گھر بناتے ہیں۔ ملائیشیا میں 30فیصد، بھارت میں 10 فیصد لوگ بینک سے قرض لیکر گھر بناتے ہیں۔

’ناموس رسالت پر تمام مسلم ممالک کو اکٹھانا ہو گا‘

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت سے متعلق معاملات 1989ء سے شروع ہوئی، سلمان رشدی کی جانب سے کتاب لگنے کے بعد معاملات شروع ہوئے۔ مغرب کونہیں پتہ ہم اپنے نبیﷺ سے ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں، فرانس میں جب گستاخی ہوئی توصرف میں نےاورصدر اردوان نے آواز اٹھائی۔ فرانس واقعہ کے بعد تمام اسلامی ملکوں کےسربراہان کوخطوط لکھے۔ تمام مسلم ممالک کو اکٹھاہونا گا۔ ورنہ اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔

’کمزور کی بجائے طاقتور لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ این آر او دینا ہے تو چھوٹے چوروں کو بھی رہا کیا جائے۔ کیا ہم پاکستان کی ساری جیلیں کھول دیں، جیلوں میں چھوٹی چھوٹی چوری والے لوگ بھی بند ہیں، کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک وہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو۔ جب ملک میں قانون نہیں ہوتا وہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک خوشحال تب ہوتا ہے جب قانون کی بالادستی ہو۔ منی لانڈرنگ سے ملک کا نقصان ہوتا ہے۔ کمزور کی بجائے طاقتور لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سارے ڈاکو اکٹھے ہو کر این آر او مانگ رہے ہیں، اگر میں یہ این آر او دے دیتا ہوں تو میں ملک کیساتھ سب سے بڑی غداری کروں گا، مشرف کے دور میں قرض اتنے نہیں تھے جتنے انہوں نے دس سال کے دوران بڑھا دیئے۔ مشرف نے این آر او دے کر بہت بڑا زیادتی کی ہے

براڈ شیٹ معاملے پر جسٹس (ر) عظمت سعید کی خدمات کیوں حاصل کی گئیں؟

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں آصف زرداری کو سرے محل دے کر این آر او دیدیا، حدیبیہ پیپر کیس میں این آر دے کر پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا۔ پیسے پاکستان آنے تھے تاہم یہ پیسے دونوں کو دے دیا گیا اور پیسہ پاکستان نہیں آیا۔ جسٹس (ر) عظمت سعید کی کرپشن کیسز کے معاملے پر بہت مہارت ہے، اس لیے ان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

’روپے کی قدر گرنے سے پٹرول مہنگا ہوتا ہے‘

عمران خان نے کہا کہ مہنگائی سب سے تکلیف دہ چیز ہے ،اس کے لیے ہر ہفتے اجلاس کرتا ہوں، روپےکی قیمت گرنے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ روپے کی قدر گرنے سے بجلی اور پٹرول مہنگے ہو جاتے ہیں۔ غربت میں اضافہ ہوتاہے، مکمل احساس ہےکہ عوام پرمہنگائی کےباعث مشکل وقت آیا ہوا ہے۔ جب حکومت ملی تو ایکسپورٹ 60 ارب ڈالر اور امپورٹ 20 ارب ڈالر تھی۔ آدھا ٹیکس قرضوں کی قسط چلا جاتا ہے۔ پی پی حکومت آئی تھی 25 پیسے روپے کی قدر گری تھی، ہمارے دورے میں مہنگائی 7 فیصد ہے۔

’فارن فنڈنگ کیس: اپوزیشن نے اپنے آپ کو عذاب میں ڈال لیا‘

فارن فنڈنگ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے آپ کو عذاب میں ڈال لیا ہے، بات ہمارے تک ختم نہیں ہوگی، انہیں بھی حساب دینا ہو گا، میں نے پوری دنیا میں فنڈ ریزنگ کی، میں سب سے زیادہ پیسے اکٹھا کرتا تھا، میں نے پولیٹیکل فنڈ ریزنگ سب سے زیادہ کی۔ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیں بہت سپورٹ کیا۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس 40 ہزار ڈونرز کی تفصیلات پی ٹی آئی کے پاس موجود ہیں، جنہیں آپ ٹیلیفون کر کے کسی بھی وقت پوچھ سکتے ہیں، میں اپوزیشن کو چیلنج کرتا ہوں کہ 100 ڈونرز کے نام دے دیں، یہ کبھی نام نہیں دیں گے کیونکہ میں ان کو جانتا ہوں۔ کیا فضل لرحمان بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے لیبیا سے پیسے نہیں لیے تھے، کیا نواز شریف بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے اسامہ بن لادن سے پیسے نہیں لیے تھے۔
عمران خان نے کہا کہ ماضی میں حکومت میں ملوث قبضہ مافیا کی مدد کرتے تھے، یہ قبضہ مافیا ان کے گھروں کے خرچے بھی چلاتے تھے۔ جن کے خلاف میری حکومت نے آپریشن کیا ہے، سب کیخلاف بڑا آپریشن ہوگا۔ ہم اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

’پی آئی اے کو سیاسی مداخلت سے پاک کریں گے‘

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے تباہ ہونے کی بڑی وجہ سیاسی ہے، ماضی کی حکومتوں میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں، 400 ارب روپے کا ادارے پر قرض ہے۔ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں تاکہ نئے جہاز لیے جا سکیں۔ یہ وہ ایئر لائن ہیں جس نے سعودی، یو اے ای اور سنگاپور کی ایئر لائنز بنائیں۔ کوشش کر رہے ہیں کہ پی آئی اے کو عالمی ادارے بنائیں، اس میں سیاسی مداخلت روکیں گے۔ سٹیل مل پر 300 ارب کا قرض ہے، پاور سیکٹر پر قرض چڑھا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں